پاکستانتازہ ترین

موسمیاتی بحران کے باعث پاکستان میں جان لیوا ہیٹ ویوز کا امکان 30 گنا بڑھ گیا

موسمیاتی بحران کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت میں ہیٹ ویو کا امکان عام حالات کے مقابلے میں 30 گنا سے زیادہ بڑھ جائے گا۔
 
یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ اس وقت عالمی درجہ حرارت میں صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ اضافہ ہوچکا ہے اور اگر یہ اضافہ 2 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تو پاکستان اور بھارت کو ہر 5 سال میں کم از کم ایک بار شدید ہیٹ ویوز کا سامنا ہوگا۔
 
مارچ 2022 برصغیر میں بہت زیادہ خشک گزرا تھا، بھارت میں 71 فیصد جبکہ پاکستان میں 62 فیصد کم بارشیں ہوئیں ، اپریل میں ہیٹ ویوز کی شدت بڑھی جبکہ مئی میں مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔
 
ہیٹ ویوز کی جلد آمد اور بارشوں میں کمی کے باعث بھارت میں گندم کی پیداوار متاثر ہوئی اور حکومت نے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردی جس سے عالمی سطح پر اس کی قیمت میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔
 
تحقیقی ٹیم میں شامل پاکستان سے تعلق رکھنے والے موسمیاتی سائنسدان ڈاکٹر فہد سعید نے بتایا کہ سب سے پریشان کن بات برصغیر میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے متعلق مطابقت پیدا نہ کرنا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اگر دنیا ڈیڑھ سینٹی گریڈ بھی گرم ہوگئی تو صورتحال کتنی خراب ہوسکتی ہے اس کا تصور ہر کوئی کرسکتا ہے، جبکہ ڈیڑھ سینٹی گریڈ سے زیادہ کا اضافہ متاثرہ آبادی کی بقا کے لیے خطرہ ثابت ہوگا بالخصوص اگر اس سے مطابقت اور روک تھام کے لیے اقدامات نہ کیے جائیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے 130 شہروں اور قصبوں میں درجہ حرارت سے متعلق ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جارہا ہے جس میں لوگوں اور اداروں کو تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
 
اس سے قبل گزشتہ دنوں ایک اور تحقیق میں پاکستان اور بھارت میں 2010 کی ریکارڈ بریکنگ ہیٹ ویو کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا تھا کہ اس خطے میں موسمیاتی بحران میں سو گنا اضافے کا امکان ہے۔
 
دیگر رپورٹس میں بھی ثابت کیا گیا تھا کہ جنوبی افریقہ اور یورپ میں تباہ کن سیلاب، شمالی امریکا میں ہیٹ ویوز اور جنوب مشرقی افریقہ میں طوفان سب عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا نتیجہ ہے۔
 
اس نئی تحقیق میں جنوب مشرقی پاکستان اور شمال مغربی بھارت میں مارچ اور اپریل میں روزانہ کے اوسط درجہ حرارت پر توجہ مرکوزکی گئی تھی ۔
 
محققین نے دریافت کیا کہ موجودہ ہیٹ ویو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باوجود ایک ایسا ایونٹ ہے جس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی اور اگر پہلے صرف ایک فیصد امکان تھا کہ ہر سال ایسا ہوسکتا ہے، تو اب یہ خطرہ 30 گنا سے زیادہ بڑھ گیا ہے ۔
 
محققین نے کہا کہ اگر موسمیاتی بحران نہ ہوتا تو اس طرح ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت میں زیادہ درجہ حرارت ہونا غیرمعمولی نہیں مگر جس چیز نے اسے غیرمعمولی بنایا وہ موسم گرما کا جلد آغاز اور طویل عرصے تک برقرار رہنا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ اس سے گھر سے باہر کام کرنے والے کروڑوں افراد پر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور ہمیں اس بحران کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے تیار ہونے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ پوسٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button