کھیل

آصف کے ہاتھ میں 4 ٹانکے تھے اور شاداب کان سے خون بہنے کے باوجود بیٹنگ کرنےگیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے ایشیا کپ کے فائنل میں شکست کے بعد ناقدین کی تنقید پر ردعمل دیا ہے۔

دبئی میں پریس کانفرنس کے دوران ثقلین مشتاق نے کپتان بابر اعظم سے متعلق کہا کہ ‘میں اس سے مطمئن ہوں، اس نے اپنے بولرز کو بہترین طریقے سے استعمال کیا، اس کی بدقسمتی ہے جو رنز نہیں کر پارہا’۔ہیڈ کوچ کے مطابق ‘بابر ورلڈ کلاس پلیئر ہے جس نے ہماری قوم اور ٹیم کو بہت کچھ دیا’۔

انہوں نے کہا ‘باہر بیٹھے لوگ اس بات کا اندازہ نہیں کرسکتے کہ ڈریسنگ روم یا کھلاڑیوں کے دماغ میں کیا چل رہا ہے، وہ صرف میچ کے بعد اسکور کارڈ ہاتھ میں پکڑ کر تبصرے کرنا شروع ہوجاتے ہیں’۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثقلین مشتاق کا کہنا تھا ‘ تبصرہ کرنے والے بالکل یہ نہیں دیکھتے کہ کون سا کھلاڑی کس وقت سے گزر رہا ہے یا اسے کیسی انجری ہے، آصف علی کا ہاتھ پھٹا، وہ چار ٹانکوں سے کھیل رہا تھا’۔

شاداب سے متعلق ہیڈ کوچ نے انکشاف کیا کہ ‘اس کے سر پر چوٹ (Concussion) کی وجہ سے فیلڈنگ کے دوران کان سے خون بہہ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ بیٹنگ کرنے گیا، لہٰذا ان لوگوں کو کھلاڑیوں کی صورتحال کا علم نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا ‘تبصرہ نگاروں کو ان سب باریکیوں کا نہیں پتہ ہوتا، مجھے اس کا علم ہے کیونکہ میں بھی ماضی میں یہ کرچکا ہوں، میں سرکاری ٹی وی پر بیٹھا کرتا تھا اور ہم باہر سے چیزیں دیکھ کر تبصرے کردیتے تھے’۔

مڈل آرڈر ناکام ہونے سے متعلق ثقلین مشتاق کا ردعمل

ہیڈ کوچ نے قومی ٹیم کے مڈل آرڈر پر تنقید کے جواب میں کہا کہ ‘لوگ کہتے ہیں کھلاڑی شفل کرو ان کی پوزیشن بدلو، ایسا کرنے سے یہ ظاہر ہوگا کہ شاید ہمیں اپنے کھلاڑیوں پر بھروسہ نہیں ہے’۔

متعلقہ پوسٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button