پاکستان

دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بلکہ بیلٹ پیپر سے آئی، الیکشن کمیشن

اسلام آباد: الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں تھی۔ دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بلکہ بیلٹ پیپر سے آئی۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندیاں آسان کام نہیں اور کم از کم 3 ماہ درکار ہوتے ہیں۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات اہم ہوتے ہیں اور انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے دوران بدامنی کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی جبکہ اپریل کے آخری ہفتے میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے قوانین تبدیلی کرنے سے الیکشن کا مسئلہ ہوتا ہے۔

سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ کوئی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہوتی اور اگر بلدیاتی انتخابات کا قانون دوبارہ تبدیل کیا گیا تو آئینی اختیار کے تحت پرانے قانون پر الیکشن کرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں 29 مئی کو انتخابات کا عمل مکمل کیا گیا اور بلوچستان کے باقی اضلاع میں الیکشن 11 دسمبر کو کرائے جا رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ڈیجیٹل حلقہ بندیوں پر تاحال کام شروع نہیں ہوا اور ڈیجیٹل مردم شُماری کے نتائج وقت پر آگئے تو بروقت انتخابات کے لیے تیار ہوں گے۔ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں الیکشن ملتوی ہوا جو 15 جنوری کو ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ہم نے ضمیر کے مطابق فیصلے کیے۔ نہ ہی الیکشن کمیشن کا کوئی فیورٹ ہے اور نہ کسی کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن غلط ہوسکتا ہے جس کے لیے فورم موجود ہیں۔

اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہا کہ جمہوریت دنیا کا پسندیدہ نظام ہے اور بیلٹ پیپر سے عوام کو خوابوں کی تعبیر ملی جبکہ تحریک پاکستان میں بیلٹ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے بہت سے چیلنجز تھے جن میں ووٹر آگاہی اور خواتین کو ووٹر لسٹوں میں شامل کرنا شامل تھا۔ کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں تھی لیکن آج الیکشن کمیشن ایک مضبوط ادارہ بن چکا اور جس کی ایک الگ پہچان ہے۔

عمر حمید نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ انتخابی مہم اخراجات، گوشوارے ایف بی اے سمیت متعلقہ اداروں سے شیئر کیے جائیں گے۔ پی ایم یو کے ذریعے الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز ووٹرز کے لیے کام کیا جا رہا ہے جبکہ آر ایم ایس کو اپڈیٹ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جینڈر گیپ کم کرنے کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور خیبر پختونخوا میں مشکل حالات کے باوجود ضمنی الیکشن کروائے گئے۔

متعلقہ پوسٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button